انگلستان کی ایک دھندلائی صبح
انگلستان کی ایک دھندلائی صبح
انگلستان کے مشرقی علاقے، جہاں نورفولک (نورفولک) یا سفولک کی زرخیز زمینیں میلوں تک بغیر کسی رکاوٹ کے پھیلی ہوئی ہیں، وہاں ایک چھوٹا سا گاؤں ایشبروک واقع تھا۔ یہ گاؤں صدیوں سے خاموشی اور معمول کی زندگی میں گندھا ہوا تھا۔ یہاں کی صبحیں اکثر صرف بھیگی ہوئی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ایک پراسرار، دودھیا دھند میں لپٹی ہوتی تھیں جو نہ صرف سڑکوں کو، بلکہ روح کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی تھی۔
یہ 1839 دسمبر کی ایک تیز سرد صبح تھی۔ فضا میں جمی ہوئی خاموشی کا راج تھا جسے توڑنے والی واحد چیز ولیمز فارم سے آنے والی تازہ گوبر، خشک گھاس اور گائے کے باڑے کی ملی جلی، ٹھٹھری ہوئی باس تھی۔ یہ باس سردی کے باوجود تیز تھی، جو ایک کسان کے لیے معمول اور زندگی کی علامت تھی۔ فارم ہاؤس کی پُرانی، چوبی دیواروں والی عمارت سے، جہاں دراڑوں سے یخ بستہ ہوا اندر آتی تھی، کھڑکی کی چھوٹی سی شیشے کی تختی سے روشنی کی ایک مدھم، زرد رنگ کی لکیر باہر آرہی تھی۔
ایلیجر رِکسٹن: خواب اور حقیقت کے درمیان
رِکسٹن خاندان کے اس خستہ حال، مگر مضبوط گھر میں، ایلیجر رِکسٹن بستر پر جاگ رہا تھا۔ اس کا جسم، ایک عظیم بُت تراش کے شاہکار کی مانند تھا؛ چوڑا، مضبوط کاندھا، جو برسوں کی کڑی محنت کا نتیجہ تھا، اور گٹھا ہوا بازو جو آسانی سے بوجھ اٹھا سکتا تھا۔ وہ گاؤں کا سب سے حسین اور وجیہہ نوجوان مانا جاتا تھا:
بال: اس کے گہرے براؤن بال پیشانی پر پڑے تھے، جو محنت اور نیند کی بے ترتیبی کے باوجود بھی ایک فطری، دلکش کُرل رکھتے تھے۔
آنکھیں: اس کی آنکھیں سبز مائل شہد رنگ کی تھیں، جو ان بادل آلود صبحوں میں بھی چمکتی تھیں، دُور اندیش، گہری اور اداس خوابوں سے بھری ہوئی۔ یہ آنکھیں کھیتوں کی مٹی کے بجائے آسمان کی وسعت تلاش کرتی تھیں۔
جسامت: اس کی بلند قامت اور کسانوں جیسی سادہ مگر پرکشش جسامت اسے بھیڑ میں نمایاں کرتی تھی۔
بستر میں پڑے ہوئے بھی اس کے کان، فارم کی گھڑی کی طرح، باہر کی آوازوں پر لگے تھے: دودھ نکالنے والی بالٹیوں کی دور سے آنے والی کھڑکھڑاہٹ، گائے کا رینگنا، اور سب سے زیادہ، اس کے والد ہیو رِکسٹن کا بھاری، سردی زدہ کھانسنا۔ یہ آوازیں فارم کے معمولات کے آغاز کا اعلان تھیں، اور ایلیجر جانتا تھا کہ بستر سے باہر نکلنے کا وقت ہو چکا ہے۔
مطالعہ اور بغاوت
ایلیجر کا جسم سختی کے لیے بنا تھا، مگر اس کا ذہن بغاوت پر آمادہ تھا۔ اٹھارہ سال کی عمر میں، کھیتوں میں اس کی جگہ ایک مستقل قید بن چکی تھی، لیکن اس کا خواب اس گیلی مٹی اور بھیگی ہوئی ہوا سے کوسوں دور، لندن کی چمکتی لائبریریوں اور یونانی فلسفے کی دنیا میں تھا۔
میز پر، جہاں روشنی کی مدھم کرن پڑ رہی تھی، اس کی پُرانی، جلد پھٹی ہوئی ڈائری کھلی پڑی تھی۔ ڈائری کے صفحات پر، جو اس کے جذباتی فرار کا واحد ذریعہ تھے، رات کا ادھورا شعر کچی پنسل سے تراشا ہوا تھا
کب تک یہ خاک میرے ہاتھ میں رچے گی،
میں نے تو وسعتِ فلک ناپنے کی ٹھانی ہے!
نصابی تعلیم اس کی دسترس سے باہر ہو چکی تھی۔ ایشبروک کی واحد گرامر سکول کی اونچی فیس اور اس سے آگے کالج کا سوچنا بھی رِکسٹن خاندان کی معاشی حالت کے لیے ایک ناقابلِ برداشت بوجھ تھا۔ وہ پرائمری تعلیم سے آگے بمشکل ہی بڑھ سکا تھا، لیکن اس نے مطالعے کی آگ کو کبھی بجھنے نہیں دیا۔ وہ راتوں کو، جب سارا گھر نیند میں ڈوبا ہوتا، چپکے سے پرانے رسالے، شیکسپیئر کے ڈرامے، اور شاعری کی نادر کتابیں پڑھتا ایک خاص الجبرا کی کتاب، جو وہ گاؤں کی لائبریری کی بوڑھی، نظر کمزور لائبیرین سے چھپا کر لایا ہوتا تھا۔ اس کا یہ خفیہ علم اس کے وجود کا سب سے بڑا اور سب سے مہنگا خزانہ تھا۔

علم دوست لوگ ایسے تو نہیں کرتے بزرگ خاتون لائبریرین کے ساتھ زیادتی ہے🥴
ReplyDeleteبزرگ خاتون کونسا خود ان کتابوں سے کوئی فائدہ اٹھاتی تھیں، وہ تو میز پر سر رکھ کر سوتی رہتی تھی دن گزار رہی تھی آخری
Delete